Sale

Restraint from Public Money (Urdu)

Buying Options

 

Frame material: Beechwood
Frame type:  Magnetic, hanging. 
Print type:  UD printing / eco solvent (washable)
Print material:
 Cotton canvas
Size:  A3

What's in the box?  
1. Wooden frame (Top and bottom, each consisting of two wooden pieces and 3 pairs of magnets for maximum strength)
2. Printed Canvas
Note: Canvas may be wiped clean or hand-washed. Gentle handwashing doesn't affect the print quality. 

Story:

Umar ◙used to engage in trade during his caliphate. When he once prepared a caravan to send to Syria, he sent someone to arrange a loan of four thousand dirhams for him from Abdul Rahman b. Auf ◙. Abdur Rahman ◙sent a message back that Umar should take the loan instead from the public treasury and pay it back later.  Umar ◙was very disappointed. When he met Abdur Rahman ◙, he said to him, “Are you the one who said I should take the money from the Public Treasury? Had I died before the caravan returns, you would say, ‘The Emir had taken the money. Let us waive it.’ But I shall then be taken to task for it on the Day of Judgment. I’ll never do such a thing. I prefer to rather take the money from a stingy and greedy person like you who would make sure that he takes it from my estate if I die.’

 

حياة الصحابة (2/ 506)
قصة عمر وعبد الرحمن بن عوف في ذلك
وأخرج أيضا عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يتجر وهو خليفة، جهز عيرا إلى الشام، فبعث إلى عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه يستقرضه أربعة آلاف درهم، فقال للرسول: قل له يأخذها من بيت المال ثم ليردها، فلما جاءه الرسول فأخبره بما قال شق ذلك عليه، فلقيه عمر فقال: أنت القائل: ليأخذها من بيت المال؟ فإن مت قبل أن تجيء قلتم: أخذها أمير المؤمنين، دعوها له، وأوخذ بها يوم لقيمة لا، ولكن أردت أن آخذها من رجل حريص شحيح مثلك، فإن مت أخذها من مالي. وأخرجه أيضا أبو عبيد في الأموال وابن عساكر عن إبراهيم نحوه، كما في المنتخب.
بیت المال میں سے اپنے اوپر اور اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں احتیاط برتنا
ابراہیم کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمانہ خلافت میں بھی تجارت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے
ایک تجارتی قافلہ ملک شام بھیچنےکا ارادہ کیا تو آپ نے چار یزار قرض لینے کے لیے حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیچا۔ حضرت عبد الرحمن کے اس قاصد سے کہا جا کر امیر المومنین سے کہہ دو کہ وہ اب بیت المال سے چار ہزار ادھار لے لیں۔ بعد میں بیت المال میں واپس کر دیں۔ جب قاصد نے واپس آکر حضرت عمر کو ان کا جواب بتایا تو حضرت عمر کو اس سے بڑی گرانی ہوئی۔ پھر حضرت عمر کی حضرت عبد الرحمان سے ملاقات ہوئی تو ان سے کہا کہ تم نے ہی کہا تھا کہ عمر چار ہزار بیت المال سے ادھار لے لے۔ اگر (میں بیت المال سے ادھار لے کر تجارتی قافلہ بھیچ دوں اور پھر) تجارتی قافلہ کی واپسی سے پہلے ہی میں مر جاؤں تو تم لوگ کہو گے کہ امیر المومنین نے چار ہزار لیے تھے اب ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ ان کے چار ہزار چھوڑ دو (تم لوگ تو چھوڑ دو گے) اور میں قیامت کے دن پکڑا جاؤں گا۔ نہیں میں بیت المال سے بالکل نہیں لوں گا۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تم جیسے لالچی اور کنجوس آدمی سے ادھار لوں تاکہ اگر میں مر جاؤں تو یہ میرے مال میں سے اپنا ادھار وصول کر لے۔

Subscribe