Sale

Problem-solving (Arabic)

Buying Options

Frame material: Beechwood
Frame type:  Magnetic, hanging. 
Print type:  UD printing / eco solvent (washable)
Print material:
 Cotton canvas
Size:  A3

What's in the box?  
1. Wooden frame (Top and bottom, each consisting of two wooden pieces and 3 pairs of magnets for maximum strength)
2. Printed Canvas
Note: Canvas may be wiped clean or hand-washed. Gentle handwashing doesn't affect the print quality. 

Story:

السنن الكبرى للبيهقي (8/ 192)
16397 - وأما الحديث الذي أخبرناه أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك، أنبأ عبد الله بن جعفر الأصبهاني، ثنا يونس بن حبيب، ثنا أبو داود، ثنا حماد بن سلمة، وقيس بن الربيع، وأبو عوانة، كلهم عن سماك بن حرب، عن حنش بن المعتمر الكناني، [ص:193] قال: ثنا علي بن أبي طالب، رضي الله عنه، قال: لما بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن حفر قوم زبية للأسد، فازدحم الناس على الزبية، ووقع فيها الأسد، فوقع فيها رجل، وتعلق برجل، وتعلق الآخر بآخر، حتى صاروا أربعة، فجرحهم الأسد فيها فهلكوا، وحمل القوم السلاح، فكاد أن يكون بينهم قتال، قال: فأتيتهم فقلت: أتقتلون مائتي رجل من أجل أربعة أناس، تعالوا أقض بينكم بقضاء، فإن رضيتموه فهو قضاء بينكم، وإن أبيتم رفعتم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو أحق بالقضاء قال: فجعل للأول ربع الدية، وجعل للثاني ثلث الدية، وجعل للثالث نصف الدية، وجعل للرابع الدية، وجعل الديات على من حضر الزبية على القبائل الأربعة، فسخط بعضهم ورضي بعضهم، ثم قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقصوا عليه القصة، فقال: " أنا أقضي بينكم " فقال قائل: فإن عليا رضي الله عنه قد قضى بيننا، فأخبره بما قضى علي رضي الله عنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " القضاء كما يقضي علي " قال هذا حماد، وقال قيس: فأمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم قضاء علي رضي الله عنه
حنش بن معتمر کنانی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی فرماتے ہیں:" جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، ایک قوم نے شیر کو قید کرنے کے لیے گڑھا کھود رکھا تھا، اور لوگوں کا اس گڑھے کے ارد گرد ہجوم لگا ہوا تھا کہ اس گڑھے میں ایک شیر گر گیا، اور اچانک اس میں ایک آدمی بھی گر گیا، (گرتے گرتے) اس نے ایک دوسرے آدمی کو پکڑا، اور دوسرے نے تیسرے کو (گرنے سے بچنے کے لیے)پکڑا، یہاں تک کہ وہ چار آدمی ہو گئے (جو گڑھے میں گر گئے)۔ شیر نے انہیں زخمی کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ قوم کی لڑنے لے لیے تلواریں نکل آئیں، اور قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ چھڑ جاتی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں ان کے پاس آیا اور کہا: کیا تم چار آدمیوں کی وجہ سے دوسو آدمی قتل کرو گے؟ ادھر آؤ میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر تم راضی ہو گئے تو یہی فیصلہ تم پر نافذ ہوگا، اور اگر تم فیصلے سے متفق نہ ہوئے تو اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جانا، وہ فیصلہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔علی رضی الله عنہ نے پہلے گرنے والے کے لیے ایک چوتھائی دیت کا فیصلہ کیا، دوسرے لے لیے دیت کے تیسرے حصے کا، اور تیسرے کے لیے آدھی دیت کا اور چوتھے کے لیے پوری دیت کا فیصلہ کیا۔ اور دیت دینا ان چار قبائل پر لازم کیا جو اس گڑھے پر موجود تھے۔ بعض لوگ آپ کے اس فیصلے سے ناراض ہوئے اور بعض راضی۔ پھر وہ لوگ اپنا قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور قصہ بیان کیا، آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا فیصلہ کر دیتا ہوں۔ ایک کہنے والے نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان فیصلہ کیا ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بتایا۔ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" فیصلہ تو جو علی نے کیا درست ہے۔"   یہ ساری بات حماد(راوی)نے بیان کی اور اگلی بات قیس نے کہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Subscribe