Sale

Democracy

Buying options

 

Frame material: Beechwood
Frame type:  Magnetic, hanging. 
Print type:  UD printing / eco solvent (washable)
Print material:
 Cotton canvas
Size:  A3

What's in the box?  
1. Wooden frame (Top and bottom, each consisting of two wooden pieces and 3 pairs of magnets for maximum strength)
2. Printed Canvas
Note: Canvas may be wiped clean or hand-washed. Gentle handwashing doesn't affect the print quality. 

Story:

"It’s incumbent upon the Muslims that their matters be decided by mutual consultation between their men of insight (the consultative assembly). The masses are bound to follow their leader and the leader is bound to follow the consultative assembly.” -The second caliph ʿUmar ibn al-Khaṭtāb

 

حياة الصحابة (2/ 278)
خطبة بليغة لعمر في المشاورة
وأخرج ابن جرير من طريق سيف عن محمد، وطلحة، وزياد بإسنادهم قالوا: خرج عمر حتى نزل على ماء يدعى صرارا فعسكر به، ولا يدري الناس ما يريد أيسير أم يقيم؟ وكانوا إذا أرادوا أن يسألوه عن شيء رموه بعثمان أو بعبد الرحمن بن عوف - رضي الله عنهما - وكان عثمان يدعى في إمارة عمر رديفا - قالوا: والرديف بلسان العرب الذي بعد الرجل، العرب تقول ذلك للرجل الذي يرجونه بعد رئيسهم - وكانوا إذا لم يقدر هذان على علم شيء مما يريدون ثلثوا بالعباس رضي الله عنه. فقال عثمان لعمر: ما بلغك؟ ما الذي تريد؟ فنادى الصلاة جامعة. فاجتمع الناس إليه فأخبرهم الخبر ثم نظر ما يقول الناس، فقال العامة: سر وسر بنا معك، فدخل معهم في رأيهم وكره أن يدعهم حتى يخرجهم منه في رفق. فقال: استعدوا وأعدوا فإني سائر إلا أن يجيء رأي هو أمثل من ذلك. ثم بعث إلى أهل الرأي فاجتمع إليه وجوه أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وأعلام العرب، فقال: أحضروني الرأي فإني سائر. فاجتمعوا جميعا وأجمع ملؤهم على أن يبعث رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ويقيم ويرميه بالجنود؛ فإن كان الذي يشتهي من الفتح فهو الذي يريد ويريدون، وإلا أعاد رجلا وندب جندا آخر، وفي ذلك ما يغيظ العدو ويرعوي المسلمون، ويجيء نصر الله بإنجاز موعود الله. فنادى عمر: الصلاة جامعة، فاجتمع الناس إليه وأرسل إلى علي وقد استخلفه على المدينة فأتاه، وإلى طلحة وقد بعثه على المقدمة فرجع إليه (وجعل) على المجنبتين: الزبير، وعبد الرحمن بن عوف - رضي الله عنهما - فقام في الناس فقال:
«إن الله عز وجل قد جمع على الإسلام أهله، فألف بين القلوب وجعلهم فيه إخوانا، والمسلمون فيما بينهم كالجسد لا يخلو منه شيء من شيء أصاب غيره، وكذلك يحق على المسلمين أن يكونوا أمرهم شورى بينهم بين ذوي الرأي منهم، فالناس تبع لمن قام بهذا الأمر، ما اجتمعوا عليه ورضوا به لزم الناس وكانوا فيه تبعا لهم؛ ومن قام بهذا الأمر تبع لأولي رأيهم؛ ما رأوا لهم ورضوا به لهم من مكيدة في حرب كانوا فيه تبعا هلم. يا أيها الناس، إني إنما كنت كرجل منكم حتى صرفني ذوو الرأي منكم عن الخروج، فقد رأيت أن أقيم وأبعث رجلا، وقد أحضرت هذا الأمر من قدمت ومن خلفت» .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اہل رائے سے مشورہ کرنا
محمد، طلحہ اور زیاد تینوں بیان کرتے ہیں کہ (یکم محرم 14 ھ کو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ لشکر لے کر (مدینہ سے) نکلے۔ اور ایک پانی پر پڑاؤ کیا جس کا نام صرار تھا۔ (یہ مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر تھا) اور لشکر کو بھی وہاں ٹھہرا لیا۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ حضرت عمر آگے چلیں گے (یا مدینہ ہی) ٹھہریں گےاور لوگ جب کوئی بات حضرت عمر سے پوچھنا چاہتے تو حضرت عثمان یا حضرت عبدالرحمن بن عوف کے واسطے سے پوچھتے اور حضرت عمر کے زمانے میں ہی حضرت عثمان کا لقب ردیف پڑ گیا تھا۔ اور عربوں کی زبان میں ردیف اسے کہتے ہیں جو کسی آدمی کے بعد اس کا قائم مقام ہو اور موجودہ امیر کے بعد اس کے امیر بننے کی امید ہو، اور جب یہ دونوں حضرات لوگوں کی وہ بات حضرت عمر سے پوچھنے کی ہمت نہ پاتے تو حضرت عباس کو واسطہ بناتے۔ چنانچہ حضرت عثمان نے حضرت عمر سے پوچھا آپ کو کیا خبر پہنچی ہے؟ اور آپ کا کیا ارادہ ہے؟ اس پر حضرت عمر نے اعلان کروایا الصلاۃ جامعۃ۔ (اے لوگو! نماز کے عنوان پر جمع ہو جاؤ) چنانچہ لوگ حضرت عمر کے پاس جمع ہو گئے۔ انہوں نے لوگوں کو (سفر کی ) خبر دی۔ پھر دیکھنے لگے کہ اب لوگ کیا کہتے ہیں۔ تو اکثر لوگوں کے کہا آپ بھی چلیں اور ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیں۔ چنانچہ حضرت عمر نے لوگوں کی اس رائے سے اتفاق کیا اور ان کی رائے کو یونہی چھوڑ دینا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ یہ چاہا کہ ان کو اس رائے سے نرمی اور حکمت عملی کے ساتھ ہٹائیں گے (اگر ضرورت پیش آگئی تو) اور فرمایا خود بھی تیار ہو جاؤ اور دوسروں کو بھی تیار کرو۔ میں بھی (آپ لوگوں کےساتھ) جاؤں گا۔ لیکن اگر آپ لوگوں کی رائے سے زیادہ اچھی رائے کوئی اور آ گئی تو پھر میں نہیں جاؤں گا۔ پھر آپ نے آدمی بھیج کر اہل رائے حضرات کو بلایا۔ چنانچہ حضورﷺ کے چیدہ چیدہ صحابہ اور عرب کے چوٹی کے لوگ جمع ہو گئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا میرا خیال ہے کہ می بھی اس لشکر کے ساتھ چلا جاؤں۔ آپ لوگ اس بارے میں اپنی رائے مجھے دیں۔ وہ حضرات سب جمع ہو گئے اور ان سب نے یہی رائے دی کہ حضرت عمر حضورﷺ کے صحابہ میں سے کسی کو(اپنی جگہ) بھیج دیں۔ اور خود حضرت عمر یہاں (مدینہ) میں ہی ٹھہرے رہیں۔ اور آدمی کی مدد کےلیے لشکر بھیجتے رہیں۔ پھر اگر حسب منشأ فتح ہو گئی تو پھر حضرت عمر کی اور لوگوں کی مراد پوری ہو جائے گی۔ ورنہ حضرت عمر دوسرے آدمی کو بھیج دیں گے اور اس کے ساتھ دوسرا لشکر روانہ کر دیں گے۔ اس طرح کرنے سے دشمن کو غصہ آئے گا اور مسلمان غلطی کرنے سے بچ جائیں گے۔ اور پھر اللہ تعالئ کا وعدہ پورا ہو گا اور اللہ کی مدد آئے گی۔ پھر حضرت عمر نے اعلان کیا کروایا الصلاۃ جامعۃ۔ چنانچہ حضرت عمر کے پاس مسلمان آنا جمع ہو گئے۔ حضرت عمر نے مدینہ میں اپنی جگہ حضرت علی کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔ انہیں بلانے کے لیے حضرت عمر نے آدمی بھیجا وہ بھی آگئے۔ حضرت طلحہ کو حضرت عمر نے مقدمۃ الجیش پر مقرر فرما کر آگے بھیجا ہوا تھا۔ انہیں بھی آدمی بھیج کر بلایا۔ وہ بھی آگئے۔ اس لشکر کے میمنہ اور میسرہ پر حضرت زبیر اور عبدالرحمن بن عوف کو مقرر کیا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ بیان کیا
"بے شک اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو اسلام پر جمع فرما دیا اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا فرما دی اور اسلام کی وجہ سے ان کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا اور مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔ ایک عضو کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ باقی تمام اعضاء کو بھی پہنچتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہونا چاہیے(کہ ایک مسلمان کی تکلیف سے سب کو تکلیف ہو) اور مسلمانوں کا ہر کام حضرات اہل شوری کے مشورہ سے طے ہونا چاہیے۔ عام مسلمان اپنے امیر کے تابع ہیں اور اہل شوری جس چیز پر اتفاق کرلیں اور اسے پسند کر لیں تو تمام مسلمانوں کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اور جو مسلمانوں کا امیر بنے وہ ان اہل شوری کا تابع ہے۔ اس طرح جنگی تدابیر میں جو اہل شوری کی رائے ہو اور جس تدبیر پر اہل شوری راضی ہوں اس میں تمام مسلمان تابع ہیں۔ اے لوگو! میں بھی تم میں سے ایک آدمی تھا(اور میرا بھی تمہارے ساتھ جانے کا ارادہ تھا) لیکن تمہارے اہل شوری نے مجھے جانے سے روک دیا ہے۔ اب میری بھی رائے یہی ہے کہ میں (مدینہ میں ہی) ٹھہروں اور (اپنی جگہ) کسی دوسرے کو (امیر بنا کر) بھیج دوں۔ اور میں جن کو آگے بھیج چکا تھا یا پیچھے (مدینہ) چھوڑ آیا تھا (اور جو یہاں موجود تھے) میں ان سب سے اس بارے میں مشورہ کر چکا ہوں۔

Subscribe