Sale

Brotherhood in Pandemic (English)

Buying Options

Frame material: Beechwood
Frame type:  Magnetic, hanging. 
Print type:  UD printing / eco solvent (washable)
Print material:
 Cotton canvas
Size:  A3

What's in the box?  
1. Wooden frame (Top and bottom, each consisting of two wooden pieces and 3 pairs of magnets for maximum strength)
2. Printed Canvas
Note: Canvas may be wiped clean or hand-washed. Gentle handwashing doesn't affect the print quality. 

Story:

As soon as the second caliph Omar heard about the Plague of Amwās that was affecting the Province of Syria, he wrote a letter to his top commander Abu Ubayda stationed at Syria. “I urgently need you for something I can’t do without you. If this letter reaches you at night, I emphatically command you to ride off to me in Madinah before the morning. If it reaches you in the morning, I emphatically command you to ride off to me before the evening.” After reading the letter, Abu Ubayda remarked, “I know well what need has presented itself to the Emir. He wishes to preserve someone who cannot live forever.” He then wrote back to Omar :“I’m part of a Muslim army and cannot leave them to save my own life. So please absolve me of your command and let me remain with my army.” When Omar read this letter he cried and wrote a second letter to him ordering him to lead the army to a highland healthier region of Jābiya which would act as a sanatorium for plague-stricken troops. Abu Ubayda complied. However, on the way to Jabiya he succumbed to the plague along with hundreds of others of his army and Amr ibn al-As lead the surviving Muslim troops to Jābiya.

Ibn Is'haq as quoted in alBidayah wa al'Nihayah (V.7 Pg.78). Tabari (V4 Pg.201)

 

حياة الصحابة (2/ 324)
رعاية الأمير المسلمين فيما نزل بهم قصة عمر وأبي عبيدة في ذلك في طاعون عمواس
أخرج ابن عساكر عن طارق بن شهاب عن أبي موسى أن أمير المؤمنين كتب إلى أبي عبيدة بن الجراح - رضي الله عنه - حيث سمع بالطاعون الذي أخذ الناس بالشام: إني بدت لي حاجة إليك فلا غنى لي عنك فيها، فإن أتاك كتابي ليلا فإني أعزم عليك أن تصبح حتى تركب إلي، وإن أتاك نهارا فإني أعزم عليك أن تمسي حتى تركب إلي. فقال أبو عبيدة رضي الله عنه: قد علمت حاجة أمير المؤمنين التي عرضت، وإنه يريد أن يستبقي من ليس بباق. فكتب إليه: إني في جند من المسلمين لن أرغب بنفسي عنهم، وإني قد علمت حاجتك التي عرضت لك، وإنك تستبقي من ليس بباق، فإذا أتاك كتابي هذا فحللني من عزمك، وائذن لي في الجلوس.d
فلما قرأ عمر رضي الله عنه كتابه فاضت عيناه وبكى. فقال له من عنده: يا أمير المؤمنين، مات أبو عبيدة؟ قال: لا، وكأن قد. فكتب إليه عمر رضي الله عنه أن الأردن أرض وبئة وكان قد كتب عمقه، وأن الجابية أرض نزهة، فاظهر بالمهاجرين إليها. قال أبو عبيدة حين قرأ الكتاب: أما هذا فنسمع فيه أمر أمير المؤمنين ونطيعه، فأمرني أن أركب وأبوىء الناس منازلهم. فطعنت إمرأتي، فجئت أبا عبيدة فانطلق أبو عبيدة يبوىء الناس منازلهم، فطعن فتوفي، وانكشف الطاعون. قال أبو الموجه: زعموا أن أبا عبيدة كان في ستة وثلاثين ألفا من الجند، فماتوا فلم يبق إلا ستة آلاف رجل. وروى سفيان بن عيينة أخصر منه. كذا في الكنز.
جو تکلیف عام مسلمانوں پر آئے اس میں امیر کا مسلمانوں کی رعایت کرنا
ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب امیر المومنین (حضرت عمر) نے یہ سنا کہ شام میں لوگ طاعون میں مبتلا ہو رہے ہیں، تو انہوں نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا مجھے ایک کام میں تمہاری ضرورت پیش آگئی ہے میں تمہارے بغیر اس کام کو نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں اگر تمہیں میرا یہ خط رات کو ملے تو صبح ہونے سے پہلے اور اگر دن میں ملے تو شام ہونے سے پہلے تم سوار ہو کر میری طرف چل پڑو۔ حضرت ابو عبیدہ (نے خط پڑھ کر) کہا امیر المومنین کو جو ضرورت پیش آئی ہے میں اسے سمجھ گیا۔ جو آدمی اب دنیا میں رہنے والا نہیں ہے وہ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں(یعنی حضرت عمر چاہتے ہیں کہ میں طاعون کی وبا والا علاقہ چھوڑ کر مدینہ چلا جاؤں اور اس طرح موت سے بچ جاؤں لیکن میں موت سے بچنے والا نہیں ہوں) حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کو جواب لکھا کہ میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں ہوں، جان بچانے کے لیے میں انہیں چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوں اور جوضرورت آپ کو پیش آئی ہے میں اسے سمجھ گیا ہوں۔آپ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں جو اب دنیا میں رہنے والا نہیں ہے۔ لہذا جب میرا یہ خط آپ کی خدمت میں پہنچ جائے تو آپ مجھے اپنی قسم کے پورا نہ کرنے سے معاف فرما دیں اور مجھے یہاں ہی ٹھہرنے کی اجازت دے دیں۔ جب حضرت عمر نے ان کا خط پڑھا تو آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور رونے لگے تو حاضرین مجلس نے کہا کیا حضرت ابو عبیدہ کا انتقال ہوگیاَ؟ حضرت عمر نے فرمایا نہیں۔ لیکن یوں سمجھو کہ ہو گیا۔ پھر حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ اردن کا سارا علاقہ وبا سے متاثر ہوچکا ہے اور جابیہ شہر وبا سے محفوظ ہے۔ اس لیے آپ مسلمانوں کو لے کر وہاں چلے جائیں۔ حضرت ابو عبیدہ نے یہ خط پڑھ کر فرمایا کہ یہ بات تو ہم ضرور مانیں گے۔ حضرت ابو موسی کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ نے مجھے حکم دیا کہ میں سوار ہو کر لوگوں کو ان کی قیام گاہوں میں ٹھہراؤں۔ اتنے میں میری بیوی کو بھی طاعون ہو گیا۔

Subscribe